Wednesday, June 17, 2009

ہر گھڑی کسی کو کسی کا انتظار ہے

ہر گھڑی کسی کو کسی کا انتظار ہے
کیوں یہ انتظار ہے اور کیسا انتظار ہے
عالم میں جسے دیکھئے محو انتظار ہے
اس انتظار کے لئے ہر کوئی بیقرار ہے
یہ کیسا انتظار ہے اور کیوں یہ انتظار ہے
جس کسی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے
اس انتظار نے کیا انساں کو بیقرار ہے
پھر بھی یہ آدمی ہے کہ محو انتظار ہے
اس انتظار نے کیا آدم کو بڑا خوار ہے
نا جانے اس خواری میں ایسا کیا خمار ہے
جو دل کو انتظار ہے آنکھوں کو انتظار ہے
یہ انتظار کی گھڑی بڑی گراں کٹھن بڑی
ناجانے انتظار کی عادت ہمیں کہاں پڑی
اس انتظار کے لئے دل کی تڑپ کو دیکھ کر
یہ آنکھ اشکبار ہے پھربھی انتظار پہ آتا ہمیں پیار ہے
جس آدمی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے
یہ انتظار کیوں ہوا ہر آدمی کا یار ہے
کبھی نیند کا کبھی خواب کا کسی وقت کا کسی بات کا
ہر گھڑی کسی کو کسی کا انتظار ہے
کیوں یہ انتظار ہے اور کیسا انتظار ہے
عالم میں جسے دیکھئے محو انتظار ہے
اس انتظار کے لئے ہر کوئی بیقرار ہے
یہ کیسا انتظار ہے اور کیوں یہ انتظار ہے
جس کسی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے

No comments:

Post a Comment

Do You Like It!!!!!!